21 نومبر 2011 - 20:30

قاہرہ کے التحریر اسکوائر پر ایک بار پھر مظاہرین اور پولیس کے درمیاں جھڑپیں شروع ہوگئي ہیں۔ایسے عالم میں جبکہ اب سے کچھ ہی دیر بعد مصری عوام کا ملین مارچ شروع ہونے والا ہے پولیس نے مظاہرین پر حملہ کیا ہے۔

ابنا:‌ مصر کی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے گولیاں چلائيں اور آنسو گيس کے گولے داغے۔ کچھ مظاہرین آنسو گيس سے زخمی ہوگئے۔

قاہرہ کے علاوہ مصر کے دیگر اہم شہروں ، اسماعیلیہ اور اسکندریہ میں بھی عوام بڑے پیمانے پر مظاہرے کر رہے ہیں ۔ ان مظاہروں میں بہت سے لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کےمطابق مصر کے وزیراعظم عصام شریف نے استعفی دیدیا ہے۔ التحریر اسکوائر پر عوام کے عظیم مظاہروں کے بعد مصر کی حکومت نے استعفی دیا ہے۔

محمد البرادعیادھر مصر کی عبوری فوجی کونسل وزیراعظم عصام شریف کے استعفی کے بعد محمد البرادعی کو وزیر اعظم بنانے کا جائزہ لے رہی ہے۔ البرادعی آئي اے ای اے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ادھر مصر میں صدارتی انتخابات کے امید وار شیخ حازم صلاح ابو اسماعیل نے فوجی کونسل سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شیخ حازم نے التحریر اسکوائر پر مظاہروں میں شامل ہوکر عبوری فوجی کونسل کے سربراہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے چوبیس گھنٹوں میں استعفی نہیں دیا تو یہ فیصلہ التحریراسکوائر پر کیا جائے گا۔............. /169